ابنا: چیف جسٹس نے ریمارکس دئے ہیں کہ ریلوے نے تو بحال ہونا ہی ہونا ہے لیکن اس میں کرپشن کرنے والے جیل کی سلاخوں کی پیچھے جائیں گے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے ریلوے میں بدحالی کے مقدمہ کی سماعت کی۔سابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے بتایاکہ پتہ چلاہے کہ خراب تیل سے 290 انجن متاثر ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ ریلوے صرف نئے انجن خریدنے میں ہی کیوں دل چسپی رکھتا ہے، رواج بن گیاہے کہ خراب چیز ٹھیک کرانے کی بجائے خزانے سے نئی خرید لی جاتی ہے۔ ممبر ریلوے بورڈ نے بتایاکہ چیف مکینیکل انجینئرنگ کے مطابق انجنز خراب تیل کی وجہ سے خراب ہوئے۔ عدالت نے فوری مرمت کے قابل انجنز کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے اس محکمہ بحالی کے لئے شیخ رشید احمد اور متعلقہ انجینئرز کی میٹنگ کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے فرانزک آڈٹ رپورٹ اگلی سماعت پر اور ہرخراب انجن کے نقص اور بحالی کے تخمینہ جات کی تفصیلات 10 دن میں طلب کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔ .......
/169